Home / News / خان پور پولیس اہلکاروں سے شراب کی بھاری کھیپ برآمد

خان پور پولیس اہلکاروں سے شراب کی بھاری کھیپ برآمد

خان پور ( قمراقبال جتوئی سے) عوام کے محافظ یا شراب کے سپلائر؟پولیس اہلکار یا جرائم پیشہ عناصر؟ خان پور کے باسی پولیس ڈیپارٹمنٹ سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں ! آج بروز ہفتہ 3 اگست کورات کے 8 بجے بستی اوکھر وند سے دو کاریں آگے پیچھے گذر رہی تھیں کہ پچھلی کار سے سفید رنگ کا ایک بورا گرپڑا ، جس میں دیسی شراب یعنی کپیاں بھری ہوئی تھیں ، بورا ایک دکان کے آگے گرا نوجوان نے اپنے باپ کو فون کرکے صورتحال بتائی ، جو ایک کلو میٹر آگے موجود تھا، اس نے آنے والی کاروں کے آگے اپنا موٹر سائیکل پھینک دیا، جس سے دونوں کاریں رک گئیں ، اگلی کار میں چار افراد سوار تھے ، وہ اترے ، کار کا راستہ روکنے والا ان میں سے ایک کو جانتا تھا کہ اس کا نام میاں فدا ہے اور یہ پولیس کانسٹیبل ہے ، باقی تینوں لوگ اس کیلئے ناواقف تھے ، چاروں افراد نے کار سے اتر کر اس کو راستہ روکنے کیلئے سبق دینا چاہتے تھے کہ بستی کے لوگ بھی پہنچ گئے ، ان کو دیکھتے ہی پولیس والوں نے اپنا رویئہ تبدیل کر کے منت سماجت پر اتر آئے ، جب دال نہ گلی اور اندازہ ہو گیا کہ لوگوں نے پولیس اور میڈیا کو اطلاع دیدی ہے ، تو پولیس اہلکاروں نے کار میں رکھی پولیس شرٹس پہن لیں ، اور پھر وہ بھی پولیس اہلکار بن گئے ، وہاں موجود درجنوں لوگوں نے بتایا کہ پہلے یہ ہم سے پچھلی گاڑی والوں کو چھڑوانا چاہتے تھے ، جب ناکام ہو گئے تو پھر پولیس کی شرٹیں پہن لیں ، ہم نے خود وہاں موجود اے ایس آئی شہباز مہاندرے سے پوچھا تو وہ ہمیں بھی اپنی وہاں موجودگی سے مطمعن نہ کر سکا ، شہباز مہاندرہ اور میاں فدا اس سے قبل متعدد مرتبہ مکمل جرائم میں ملوث ہو کر معطل ہوچکے ہیں ،مگر اس کے باوجود چند ماہ کی معطلی کے بعد دوبارہ پھر کسی اچھے تھانے میں تھانیداری کر رہے ہوتے ہیں ، کیا خود پولیس اپنے جرائم پیشہ پیٹی بھائیوں کو بچانے میں کردار ادا کرتی ہے ؟ یا وہ خود ہی بحال ہو جاتے ہیں ؟
خان پور کے باسی موجودہ ڈی پی او عمر فاروق سے سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ نہیں ؟ باقاعدہ سنگین جرائم میں ملوث پولیس اہلکار دوبارہ کیسے آن دھمکتے ہیں ؟
ضلع رحیم یار خاں عموماً اور اس میں سے خان پور خصوصاً ان دنوں چوریوں ڈکیتیوں اور جرائم میں اتنا زیادہ آگے جا چکا ہے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جب خود پولیس میں ڈاکو موجود ہوں تو ہماری حفاظت کون کریگا ؟

 

 

Check Also

رحیم یار خان یونیورسٹی میں کلین اینڈ گرین منصوبے کے تحت ٹری پلانٹیشن کا آغاز

رحیم یارخان(نامہ نگار)خواجہ فریدیونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈانفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یارخان میں پاکستان کلین اینڈ گرین …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *